بلیک ہولز
مفتی سید خالد بخاری
Khalidbukhari9@gmail.com
0321-3532805
علم فلکیات(Astronomy) میں یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی ، تقریباً نصف صدی سے ماہرینِ فلکیات رصدگاہوں سے اس کے تعاقب اور مشاہدے میں جُتے ہوئے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کی حقیقت کا سُراغ لگا ہی لیا، اس کا نام انہوں نے ’’بلیک ہولز‘‘ رکھا۔’’ بلیک ہولز ‘‘ کیا ہے؟ ہم آسان الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ دراصل بلیک ہولز بہت بڑے حجم رکھنے والے ستارے ہی ہوتے ہیں ۔ عموماً ستاروں اور سیاروں کی قوتوں کا توازن انہیں باندھ کر رکھتا ہے اور اُن کو اپنے ’’مادّے ‘‘ کی ساخت قائم اور مستقل رکھنے کے قابل بناتا ہے، لیکن بسا اوقات ان قوتوں میں سے ثقل(Gravity) کی قوت دوسری تمام قوتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو قوتوں کے توازن میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے ، اس بگاڑ سے مادّہ بے پناہ کثیف ہوجاتا ہے اور پھٹ کر ’’بلیک ہولز‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس کثافت کی وجہ سے اس کی کششِ ثقل اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس کے قریب سے گذرنے والی کوئی شئے بھی اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتی، وہ ہر شئے کو اپنی طرف کھینچ کر ہڑپ کرجاتا ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی اس سے پلٹ کر واپس نہیں آسکتی ، اسی وجہ سے اسے ہم دیکھ بھی نہیں پاتے۔
سائنسدان بلیک ہولز کی تین منفرد خصوصیات بتلاتے ہیں :
۱) یہ دکھائی نہیں دیتے ۔
۲) یہ کائنات میں گردش کرتے رہتے ہیں۔
۳) یہ بے انتہا جاذبیت اور کشش کی قوت رکھتے ہیں۔
اب ذرا مندرجہ ذیل آیاتِ کریمہ کے ترجمہ میں غور کیجیے:
{فَلَاْ أُقْسِمُ بِالخُنَّسِ-الْجَوَاْرَ الکُنَّسِ} (التکویر:۱۵،۱۶)
ترجمہ:( میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والوں ، سیدھے چلنے والوں اور دبک جانے والوں ستاروں کی)
قدیم مفسّرین نے اپنے زمانے میں موجود معلومات کی بنیاد پر اس سے عام ستارے مراد لیے تھی اور اُن کا یہ مراد لینا بالکل درست تھا،کیونکہ ستارے دن میں غائب ہوجاتے ہیں اور رات میں نظر آنے لگتے ہیں، اپنے مدار پر حرکت کرتے ہیں لیکن سورج کے طلوع ہوتے ہی دُبک کر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب بلیک ہولز کی دریافت ہوئی تو وہ ماہرینِ شریعت جن کی سائنس اور علمِ جدید پر بھی گہری نظر تھی اُن کو قرآنی آیات میں بیان کردہ ستاروں کی تین صفات وہی محسوس ہوئیں جو بلیک ہولز میں پائی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ ستاروں کے تو اور بھی اوصاف ہیں لیکن اللہ رب العزت نے خاص یہ تین وصف کیوں بیان کیے؟
یقیناً خالقِ کائنات نے اپنے کلام میں وہ عجائبات رکھے ہیںجو کبھی ختم نہ ہوں گے لہذا یہ تین اوصاف اعجازِ قرآن کے انہی شاہکاروں میں سے ہیں جن کی بنیاد پر یہ قرآن ہر زمانے میں اپنی سچائی پر دلیلیں قائم کرتا ہے ۔ تو بلیک ہولز پھٹ جانے کے بعد ہماری نگاہوں سے یپچھے ہٹ کر اوجھل ہوجاتے ہیں(الخُنَّس) ۔کائنات میں اپنے مدار پر گردش کرتے رہتے ہیں ،اپنا سفر جاری رکھتے ہیں(الجَوَاْرَ) اور اپنی بے پناہ جاذبیت کی وجہ سے فضا اور خلا میں تیرتے ستاروں ، سیاروں، چٹانوں اور پتھروں کو اپنے آپ میں جذب کرکے آسمان کی صفائی ستھرائی کا کام انجام دیتے ہیں(الکُنّس) ۔یادرہے کہ حدیث میں ’’کُنَاسَۃ‘‘ کا لفظ کچرا کنڈی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ’’کَنَّاسۃ‘‘ جدید عربی میں جھاڑو اور جھاڑن کو کہا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment