Thursday, October 28, 2021

Black Holes

بلیک ہولز

مفتی سید خالد بخاری

Khalidbukhari9@gmail.com

0321-3532805

علم فلکیات(Astronomy) میں یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی ، تقریباً نصف صدی سے ماہرینِ فلکیات  رصدگاہوں سے اس کے تعاقب اور مشاہدے میں جُتے ہوئے تھے۔ آخر کار انہوں نے اس کی حقیقت کا سُراغ لگا ہی لیا، اس کا نام انہوں نے ’’بلیک ہولز‘‘ رکھا۔’’ بلیک ہولز ‘‘  کیا ہے؟ ہم آسان الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ دراصل بلیک ہولز بہت بڑے حجم رکھنے والے ستارے ہی ہوتے ہیں ۔ عموماً ستاروں اور سیاروں کی قوتوں کا توازن انہیں باندھ کر رکھتا ہے اور اُن کو اپنے ’’مادّے ‘‘ کی ساخت قائم اور مستقل رکھنے کے قابل بناتا ہے، لیکن بسا اوقات ان قوتوں میں سے ثقل(Gravity) کی قوت دوسری تمام قوتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو قوتوں کے توازن میں بگاڑ پیدا کردیتی ہے ، اس بگاڑ سے مادّہ بے پناہ کثیف ہوجاتا ہے اور پھٹ کر ’’بلیک ہولز‘‘ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس کثافت کی وجہ سے اس کی کششِ ثقل اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ اس کے قریب سے گذرنے والی کوئی شئے بھی اس سے فرار حاصل نہیں کرسکتی، وہ ہر شئے کو اپنی طرف کھینچ کر ہڑپ کرجاتا ہے، یہاں تک کہ روشنی بھی اس سے پلٹ کر واپس نہیں آسکتی ، اسی وجہ سے اسے ہم دیکھ بھی نہیں پاتے۔

سائنسدان بلیک ہولز کی تین منفرد خصوصیات بتلاتے ہیں : 

 ۱) یہ دکھائی نہیں دیتے ۔

۲) یہ کائنات میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ 

۳) یہ بے انتہا جاذبیت اور کشش کی قوت رکھتے ہیں۔ 





اب ذرا مندرجہ ذیل آیاتِ کریمہ کے ترجمہ میں غور کیجیے:

{فَلَاْ أُقْسِمُ بِالخُنَّسِ-الْجَوَاْرَ الکُنَّسِ} (التکویر:۱۵،۱۶)

ترجمہ:( میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹ جانے والوں ، سیدھے چلنے والوں اور دبک جانے والوں ستاروں کی)


قدیم مفسّرین نے اپنے زمانے میں موجود معلومات کی بنیاد پر اس سے عام ستارے مراد لیے تھی اور اُن کا یہ مراد لینا بالکل درست تھا،کیونکہ ستارے دن میں غائب ہوجاتے ہیں  اور رات میں نظر آنے لگتے ہیں، اپنے مدار پر حرکت کرتے ہیں لیکن سورج کے طلوع ہوتے ہی دُبک کر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب بلیک ہولز کی دریافت ہوئی تو وہ ماہرینِ شریعت جن کی سائنس اور علمِ جدید پر بھی گہری نظر تھی اُن کو قرآنی آیات میں بیان کردہ ستاروں کی تین صفات وہی محسوس ہوئیں جو بلیک ہولز میں پائی جاتی تھیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی خیال آیا کہ ستاروں کے تو اور بھی اوصاف ہیں لیکن اللہ رب العزت نے خاص یہ تین وصف کیوں بیان کیے؟

یقیناً خالقِ کائنات نے اپنے کلام میں وہ عجائبات رکھے ہیںجو کبھی ختم نہ ہوں گے لہذا یہ تین اوصاف اعجازِ قرآن کے انہی شاہکاروں میں سے ہیں جن کی بنیاد پر یہ قرآن ہر زمانے میں اپنی سچائی پر دلیلیں قائم کرتا ہے ۔ تو بلیک ہولز پھٹ جانے کے بعد ہماری نگاہوں سے یپچھے ہٹ کر اوجھل ہوجاتے ہیں(الخُنَّس) ۔کائنات میں اپنے مدار پر گردش کرتے رہتے ہیں ،اپنا سفر جاری رکھتے ہیں(الجَوَاْرَ) اور اپنی بے پناہ جاذبیت کی وجہ سے فضا اور خلا میں تیرتے ستاروں ، سیاروں، چٹانوں اور پتھروں کو اپنے آپ میں جذب کرکے آسمان کی صفائی ستھرائی کا کام انجام دیتے ہیں(الکُنّس) ۔یادرہے کہ حدیث میں ’’کُنَاسَۃ‘‘ کا لفظ کچرا کنڈی کے لیے استعمال ہوا ہے اور ’’کَنَّاسۃ‘‘ جدید عربی میں جھاڑو اور جھاڑن کو کہا جاتا ہے۔


گناہگار پیشانی؟

قرآن کریم کی پہلی نازل ہونے والی سورت سورۃ العلق میں اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: 

کَلَّا لَئِنْ لَّمْ یَنْتَہِ   ڏ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ہۙ ۱۵ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ہۚ ۱۶ (العلق: ۱۵/۱۶)

ترجمہ: ’’بھلا کیوں نہیں! اگر وہ شخص باز نہیں آیا تو ہم اسے پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں گے یعنی جھوٹی اور خطا کار پیشانی‘‘۔


 حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اﷲ تعالیٰ تفسیرِ معارف القرآن میں لکھتے ہیں: ’’ان آیات سے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے کا حکم دیا اور آپ نے نماز پڑھنا شروع کی تو ابوجہل نے آپ کو نماز پڑھنے سے روکا اور دھمکی دی کہ آئندہ نماز پڑھیں گے اور سجدہ کریں گے تو وہ معاذ اﷲ آپؐ کی گردن کو پاؤں سے کچل دے گا، اس کے جواب اور اس کو زجر کرنے (ڈرانے دھمکانے) کے لیے یہ آیات آئی ہیں‘‘۔ 

البتہ اس جگہ ایک عام ذہن میں یہ سوالات ضرور اٹھتے ہیں کہ قران مجید نے آخر سر کے سامنے والے حصے یعنی پیشانی کو جھوٹے اور گناہگار کی حیثیت سے کیوں تعبیر کیا؟ آخر قرآن مجید نے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ شخص جھوٹا اور گناہگار ہے؟ آخر پیشانی، جھوٹ اور گناہگاروں کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ جھوٹی پیشانی کا مفہوم کیا ہے؟ پیشانی کو جھوٹا اور خطا کار کہنے سے کیا مراد ہے؟ ان سوالات کے جواب سے پہلے مندرجہ ذیل سائنسی تحقیق پر غور کریں:

۱۔ کھوپڑی کے اندر انسانی دماغ کرّہ نما دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق 90% فیصد لوگوں میں بائیں طرف والا دماغ گفتگو بول چال اور ریاضی جیسے منطقی اعمال کنٹرول کرتا ہے جبکہ دائیں طرف والا حصہ لطیف اور جذباتی نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے۔


۲۔ دماغ میں اگلے حصے میں واقع اوپر کے دونوں حصے عقل کے مرکز شمار ہوتے ہیں اور یہ حصہ انسانی دماغ میں ارادے، خیال اور عمل کا مرکز سمجھا جاتا ہے، فکر و تدبر کی ساری صلاحیتیں اسی حصے میں ہوتی ہیں، سر کے اسی حصے کو ’’ناصیۃ‘‘ کہا جاتا ہے۔

۳۔ انسانی دماغ کا یہ حصہ منصوبہ بندی کرنے، حرکت کی طرف پیش قدمی کرنے، اچھے اور برے طرز عمل اور جھوٹ یا سچ بولنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

۴۔ سنگین جرائم میں ملوث لوگوں کی نفسیات پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مجرموں کے دماغ کی ساخت عام لوگوں سے بدل جاتی ہے خاص طور پر ان کے دماغ کے اگلے حصے میں یہ تبدیلی بہت واضح ہوتی ہے، اس حصے میں ذرہ برابر بھی خلل پیدا ہوجانے سے یہ مجرم نہایت سرکش اور باغی بن جاتے ہیں۔ 

۵۔ مزید ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی کہ جب بھی انسان کسی بھی جرم کا ارادہ کرتا ہے تو اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے والی قوت پہلے اس کے اگلے دماغ میں مرکوز ہوتی ہے، اگر یہ دماغ اسے پاس کردے تو انسان وہ عمل سر انجام دیدیتا ہے ورنہ نہیں۔ 


لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ انسان کے اچھے برے عمل، جھوٹ سچ کا ماسٹر مائینڈ یہ حصہ ہوتا ہے جس کو ہم ’’پیشانی‘‘کہتے ہیں لہٰذا اﷲ تبارک و تعالیٰ کا پیشانی کو جھوٹا اور خطا کار کہنا اسی مناسبت سے تھا، سرکارِ دوعالم صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اپنی ایک دعا میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے: 

(اللّٰھم انّی عبدک و ابن عبدک و ابن أمتک نا صیتی بیدک) (مسند احمد ج:۱ص: ۳۹۱(

اے اﷲ بے شک میں آپ کا بندہ ہوں، آپ کے بندے اور بندی کی اولاد ہوں، میری پیشانی آپ کے قبضے میں ہے!


اب ایمان و یقین کے پیدا ہونے والے تازہ ولولوں کے ساتھ مندرجہ ذیل آیاتِ کریمہ کے ترجمہ میں غور کیجیے:

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ ہۚ ۴۱ (الرحمن: ۴۱)

ترجمہ:’’مجرم لوگوں کو ان کی علامتوں سے پہچان لیا جائے گا، پھر انہیں سر کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا‘‘۔



مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِھَا    ۭ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ہ ۵۶ (ھود: ۵۶)

ترجمہ:’’زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضے میں نہ ہو۔یقیناً میرا پروردگار سیدھے راستے پر ہے‘‘۔



اس مضمون کو سوچتے ہوئے اچانک یہ خیال ذہن میں آیا کہ شاید اسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے سب سے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے !اور جب ہی فقہاء کرام نے فرمایا ہے کہ پیشانی زمین پر ٹیکے بغیر سجدہ درست نہیں ہوتا ہے!


Black Holes

بلیک ہولز مفتی سید خالد بخاری Khalidbukhari9@gmail.com 0321-3532805 علم فلکیات(Astronomy) میں یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی ، تقریباً نصف ص...